نئی دہلی، 30 جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دہلی کے روہنی میں واقع وجے وہارعلاقے میں بنے باباوریندردیودکشت کی روحانی یونیورسٹی پر دہلی میونسپل کارپوریشن کاہتھوڑاچلناشروع ہوگیاہے۔ الزام ہے کہ عمارت میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیری کام کیاگیا،حالانکہ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کا سامنا کررہابابااب تک پولیس کی پہنچ سے بہت دور ہے۔ورندر دیودکشت کی مبینہ یونیورسٹی کسی جیل نماعمارت سے کم نہیں ہے۔ اس پر لڑکیوں کو مجبور کرنے اور جنسی استحصال کرنے کے مسلسل الزامات لگتے رہے ہیں، اب دہلی میونسپل کارپوریشن نے بھی شکنجہ کستے ہوئے یہاں توڑپھوڑشروع کردی ہے۔ ایم سی ڈی نے سب سے پہلے عمارت کی سب سے اوپروالے حصے کوزمیں دوزکردیا، جس جگہ خواتین بابا کے ساتھ’دھیان‘کرتی تھیں۔ عمارت کوکچھ اس طرح بنایاگیا ہے کہ اس میں روشن دان اور کھڑکیاں توہیں لیکن سب کو ڈھک دیا گیا ہے۔ عمارت میں غیر قانونی غیر قانونی طورپربنی بیسمنٹ پارکنگ بھی ہے،ایم سی ڈی کی مانیں تو ہر غیر قانونی حصہ کو تہس نہس کردیا جائے گا۔ ایم سی ڈی کے مطابق آشرم کے لوگوں کو کئی بار مطلع کیا گیا تھا لیکن لوگوں نے یہاں نوٹس لینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد یہ کیا گیا ہے۔وہیں آشرم میں تقریبا 250 خواتین ہیں، لہذا پولیس کی ایک بڑی تعدادمیں آشرم کے باہر اور اندر تعینات کی گئی تھی،جس سے قانون نظام خراب نہ ہوپائے۔ایک طرف یونیورسٹی کو ٹوڑا جا رہا ہے تو دوسری طرف یونیورسٹی کامکھیابلاتکاری بابا ویرندر دیوابھی تک لاپتہ ہے، اسے 4 جنوری کو دہلی ہائی کورٹ کے سامنے حاضر ہونا تھا لیکن وہ نہیں آیا،اب اسے عدالت میں 5 فروری تک حاضر ہونا ہے، اس کے خلاف سی بی آئی نے جنسی زیادتی اور اغوا کے تین واقعات درج کیے ہیں۔بابا پرالزام لگایا جاتا ہے کہ بہت سی لڑکیوں کو یونیورسٹی میں مجبور کرکے باباان کا جنسی استحصال کررہا تھا۔ متاثرہ خاندانوں کے کئی دنوں کے ہنگامے کے بعددہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کوسونپی ہیں۔دہلی خواتین کمیشن نے بھی اس آشرم کا دورہ کیا۔ ورندر دیو کے ملک اورملک کے باہرتقریباََ200 آشرم ہیں، جس میں وجے وہارکا آشرم سب سے بڑا ہے۔